حائضہ کے لئے الله کا ذکر
امابعد یہ حکم خاص طور پر رمضان سے متعلق نہیں بلکہ اختلاف حائضہ کے تلاوت کرنے میں رمضان اور غیر رمضان دونوں میں مطلقاََ ہے اور اسی مسئلہ میں اہل علم کے تین اقوال ہیں : پہلا قول: مطلقاََ ممانعت کا ہے ، اور وہ یہ کہ حائضہ کے لئے جائز نہیں کہ وہ کچھ بھی تلاوت کرے قرآن کریم میں سے اور دلیل کی بنیاد اسی آیت کو بنایا ہے :’’نماز کے قریب بھی نہ ہو اس حالت میں کہ تم نشے میں ہو یہاں تک کہ تمہیں علم ہونے میں لگے کہ تم کیا کہہ رہے ہو اور نہ ہی جنابت کی حالت میں مگر یہ کہ راستہ عبور کرنے کے لئے ، یہاں تک کہ تم غسل کرو‘‘۔ (النساء:۴۳ ) لہٰذا حائضہ کو جنبی کے ساتھ لاحق کیانماز کی ممانعت کے اعتبار سے کیونکہ نماز میں قرأت ہوتی ہے اور نماز کی جگہ سے ممانعت گویا کہ قرأت سے بھی ممانعت ہے۔ مگر صحیح یہ ہے کہ حائضہ کو قرأت قرأن سے منع کرنے کے بارے میں کوئی دلیل موجود نہیں لہٰذا ہم کہیں گے کہ حائضہ قرآن کی تلاوت کرے گی اور جس نے حائضہ کا قیاس جنسی پر کیاقرأت کی ممانعت کے بارے میں تو ایسا قیاس قابل توجہ نہیں ہے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ حائضہ جنبی سے متعدد جہات سے وہ مختلف ہے۔ پہلی جہت: حا...